• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information surah baqra ayat no.3 tafseer (الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ وَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ)

سُوۡرَةُ البَقَرَة
بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ وَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ‏ ﴿۳

ترجمہ: جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ﴿۳

1۔(الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کا تعلق بھی اندر سے ہے ۔ایمان کا تعلق بنیادی طور پر دل سے ہے۔ ان چیزوں پر یقین رکھنا جن کو جاننے کا اور کوئی ذریعہ نا ہوسوائے وحی الہی کے ان چیزوں کو ماننا جو قرآن میں بتائی گئیں۔

سب سے پہلے اللہ پر ایمان ،فرشتوں پر ایمان رسولوں پر تقدیر پر ایمان۔اب ان کو ہم نے دیکھا تو نہی ہے پر ایمان بالغیب تو ہے نا؟
یہاں وہ ایمان مفصل یاد کریں جو ہم پڑھتے ہیں۔

اب یہ کتاب قرآن ہمارے سامنے لیکن اب ہمیں تو نہی پتہ کیسے وحی آتی تھی کیسے فرشتہ لے کر آتا تھا لیکن ہم نے قرآن میں پڑھا کہ اللہ نے یہ کتاب نازل کی اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل پر اپنے فرشتے جبرائل کے ذریعے ۔اب ہم نے یہ پڑھا ہم ایمان لے آئے کہ یہی سچ ہے یہی حق ہے۔
اب مومن تووہی ہوگا جوایمان بالغیب پر یقین رکھے۔
متقین کی پہلی صفت ہے ایمان بالغیب، کیونکہ اس کے بغیر ھدایت نہی مل سکتی۔ ایمان بالغیب میں ہر اس بات پر ایمان لاناہے جو قرآن میں بتایا گیا کسی ایک پر ایمان لا کر ھدایت نہی مل سکتی۔
آپ قرآن پڑھتے ہیں ھدایت کے لیے تو اس کے لیے شرط لگا دی ہے کہ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ
۔اگر کوئی کہے کہ میں سب کچھ مان لیا لیکن اللہ کو نہی تو ھدایت ملے گی؟
۔اگر کوئی کہے کہ میں رسولوں کو نہی مانتی یا فرشتوں کو نہی مانتی تو پھر وہ قرآن سے نالج تو لے گا مگر ھدایت نہی
اس لیے پہلی شرط ہے کہ ایمان بالغیب۔

2۔(وَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ) اور آداب کے ساتھ قائم کرتے ہیں نماز۔
اب جو ایمان ہے وہ ثبوت مانگتا ہے۔ایمان اندر کی چیز ہے اس کا اظہار عمل سے ہوگا۔اور عمل میں پہلا مطالبہ نماز کا ہے صرف نام کی نماز نہی درست طریقے سے نماز۔ اورنماز کو اولین ترجیح دینا اس کے بعد دوسری چیزوں کو رکھنا۔
مطلب کہ کہیں بھی جانا ہو کوئی پروگرام ہو تو ایسے ٹائم پر کہ نماز نا رہ جائے ہماری، زندگی میں نماز سب سے ٹاپ پر ہے اعمال میں باقی اس کے بعد آتے ہیں اور نماز کونسی ؟ درست طریقے سے ، ٹھیک ٹھیک۔

3۔(وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ‏ ) اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
پھر اپنے تقوی کا اظہار کیسے کرتے ہیں؟ پہلے تو عمل سے اظہار کرتے ہیں مطلب نماز سے پھر دوسرے نمبر ہے مال کو خرچ کرنا۔
ہمیں جو نعمتیں ملی ہیں وہ ہماری ملکیت ہوتی ہیں تو اس میں سے خرچ کرنا مطلب نعمتوں سے دوسروں کو بھی فائدہ دینا ، بخل سے کام نہی لینا
متقی لوگوں کی ایک صفت شئیرنگ بھی ہوتی ہے۔
اب نعمتیں دو قسم کی ہوتی ہیں
1۔مادی
2۔معنوی
مادی میں کھانے پینے کی چیزیں اور معنوی میں نعمت اسلام اور دین کو آگے پھیلانایہ سب آجاتا ہے
اب اسلام کی نعمت کتنی بڑی نعمت ہے اگر ہمیں ملی ہے تو اس کو آگے پھیلانا چاہئے کہ نہی؟ قرآن کی نعمت مل جائے اس کو شئیر کرنا ہے کہ نہی؟
پھر مادی چیزوں کو بھی شئیر کرنا ہے جیسے اللہ نے آپکو مال دیا ہے تو اس کو لوگوں میں تقسیم کریں اس سے آپ کا مال کم نہی ہوگا۔
اور دوسری بات آپ کا اچھے اخلاق خا مظاہرہ کرنا بھی ینفقون ہے ، کسی سے مسکرا کر بات کرنا اس کے دکھ کو سن لینا اس کو تسلی کے دو بول کہہ دینا۔
کسی سے لڑائی ہو تو بدلے میں اسکو کچھ نا کہنا صبر کرنا تو اس کا ریوارڈ آپکو اللہ ضرور دے گا ان شاء اللہ
جزاکم اللہ خیرا کثیرا​

English Translation
Translation: Those who believe in the unseen and pray with manners and spend out of what We have given them;

1.(الَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِالۡغَيۡبِ) Those who believe in the unseen. It also has to do with the inside. Faith has to do with the heart. Believing in things that have no other means of knowing except believing in the things of divine revelation that are mentioned in the Qur'an.
First of all, faith in Allah, faith in angels, faith in messengers, faith in destiny. Now we have not seen them, but faith is immature, isn't it?
Remember the faith we read here in detail.

Now this book of Qur'an is in front of us but now we don't know how revelation came and how angel brought it but we read in Qur'an that Allah revealed this book on the heart of his servant Muhammad (peace be upon him) Through. Now that we have read this, we believe that this is the truth, this is the truth.
Now the believer will be the one who believes in the immature faith.
The first attribute of a pious person is immature faith, because without it there can be no guidance. Adult faith is believing in everything that is stated in the Qur'an. One cannot be guided by believing in one.

When you recite the Qur'an for guidance, it is stipulated that those who believe in the unseen.
If someone says that I have accepted everything but not Allah, will I be guided?
If anyone says, "I do not believe in the messengers or the angels," then he will take knowledge of the Qur'an, but not guidance.
Therefore, the first condition is that faith is immature.

2. (وَيُقِيۡمُونَ الصَّلٰوةَ) And establish prayer with manners.
Now the faith that is asking for proof. Faith is an inner thing, it will be expressed through action. And the first demand in action is prayers, not just name prayers, but proper prayers. And giving priority to prayer and then putting other things.
This means that if there is a program to go anywhere, at a time when prayers are no more, prayers are at the top of our lives. Exactly, exactly.

3. (وَمِمَّا رَزَقۡنَاهُمۡ يُنۡفِقُونَۙ) And they spend out of what We have given them.
Then how do you express your piety? First of all, they express it through action, which means after prayers, and secondly, it means spending money.
The blessings we have received are ours, so spending out of them means benefiting others, not using stinginess.
Sharing is also an attribute of pious people.
Now there are two kinds of blessings
  1. Material
  2. Spiritual
In material things, food and drink, and in spirituality, the blessings of Islam and religion are spread
Now what is the great blessing of Islam, if we have received it, should it be spread or not? Is it necessary to share the blessings of the Qur'an or not?
Then you have to share material things as Allah has given you wealth, so distribute it among the people, it will not reduce your wealth.
And secondly, to show your good manners is hypocrisy, to talk to someone with a smile, to listen to their sorrow, to give them two words of consolation.
If there is a fight with someone, do not say anything to him in return, be patient, then Allah will give you his reward, God willing.
Jazakum Allah.....

 
Top